ذندگی کے پہاڑ سے گر کر آج تم مایوسی کے سمندر میں ڈوب رہے ہو؟

Zeeshan Arshad
8 min readNov 15, 2020

مایوسی کے سمندر میں ذندگی کے پہاڑ سے گر کر تیراکی نہ آنے کے سبب جس کانفیڈینس کی کمی کا شکار ہوکرآج تم ڈوب رہے ہو اس کی جڑیں تو تمہارے بچپن سے جڑی ہوئی ہیں اور اس کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو ہر وقت تم پر بے جا روک ٹوک، ڈانٹ ڈپٹ، طنز و تنقید، برا بھلا کہنا وغیرہ جیسے اعمال کے عادی رہے اور انہیں یہ شعور بھی نہیں کہ ایک بچہ پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر انہوں نے اس کو کس حال میں معاشرے کے درندوں کے درمیان مقابلہ کے چھوڑ دیا جہاں وہ اس قابل بھی نہیں رہا کہ خود اعتمادی، جرات اور اعتماد کے ساتھ اپنی بات کرسکے اور کسی کا سامنا کرسکے۔

بس مجھے مزید فی الحال اس وقت اور کچھ نہیں کہنا ماسوائے یہ کہہ کر اختتام کرنے کے کہ اب یہ تمہاری اپنی جنگ ہے اپنی ہی ذات کے خلاف جو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور اس جنگ کے کھلاڑی بھی تم ہو اور اس جنگ کے مخالف بھی تم ہی ہو یعنی کہ تمہاری اپنی “انا” ہی تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس میں تمہارا قصور بھی نہیں کہ اس دشمن نما ذہنی قید خانے کی دیواروں کو تعمیر کرنے والے تمہارے ارد گرد بہت محنت کرتے رہے ہیں۔

اب اس ذہنی قید خانہ کی دیواروں کو زمین بوس کرنے کے لیے تمہیں اپنے آپ میں بہت طاقت بڑھانے اور تبدیلی لانے کی ضرورت ہے سخت محنت اور کوشش کرتے ہوئے دن رات تاکہ اس کی جڑیں کمزور کرکے انہیں اپنی طاقت کے دھکوں سے توڑ سکو اور خود کو اس ذہنی قید خانہ سے آزاد کرواسکو اپنے ہی آپ کو شکست دے کر۔

تم فرار ہونا چاہتے ہو لیکن ایک انجانی قوت تمہیں پکڑ کر رکھتی ہے اور ایک انجانی قوت تمہارے سامنے کھڑی رکاوٹ بنی رہتی ہے۔

ہاں تمہیں دبوچنے والی قوت تمہارا ماضی ہے اور تمہارے سامنے کھڑی ہوئی تمہارا اپنا نفس ہے اور یہ ہے مقابلہ تمہارا اپنے آپ سے جس میں فتح اسی وقت ہوگی جب تم اپنے ہی آپ پر محنت کرکے خود کو طاقت ور بناکر اپنے ہی ارد گرد تعمیر شدہ ان نفسانی فولادی دیواروں کو زمین بوس کرکے کھلی فضا میں باہر نکل آو گے ایک نئے انسان کے روپ میں اپنی جسمانی، روحانی اور نفسیاتی تعمیر کے بعد۔

لیکن آج تم کمزور ہو، احساس کمتری کا شکار ہو، غصہ سے بھرپور ہو، ضد میں آگ بگولہ ہو یا جو بھی ہو تم دوسروں سے خوشی لینے کی امیدیں ختم کردو کیونکہ وہ تمہیں نہیں سمجھ سکتے، تمہارے کردار کی گہرائیوں میں نہیں اتر سکتے، تمہارے احساسات کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ ان کی نظروں مییں تم جیسے انسان صرف نفسیاتی، پاگل اور ذہنی مریض ہیں اور وہ تمہیں اپنے زہریلے خنجروں، تلواروں اور تیروں سے چھلنی کرتے رہیں گے جب تک کہ تم خود کشی نہ کرلو اور تب بھی پیچھا نہ چھوڑیں گے کہ ایک پاگل اور نفسیاتی تھا خود کشی کرلی اور ان احمقوں کو یہ شعور نہ ہوگا کہ تمہیں اس مقام تک دھکیل کر پہنچانے والے بھی وہی تھے اور پھر تمہارے مرجانے کے بعد وہ اپنے اگلے شکار پر کوشش شروع کردیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک کہ خود کو پاگل سمجھنے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ انہیں اس حال میں پہنچانے والے یہی لوگ ہیں جو خود کو مسیحا منوانے پر تلے ہوئے ہیں اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں کہ وہی دراصل تمہارے ارد گرد اپنے زہریلے الفاظ کی اینٹوں سے ایسی دیواریں تعمیر کررہے ہیں جو تمہیں بے بس کررہی ہیں اور اسی ذہنی قید خانے میں ناجانے کتنے خود کشی کرکے دم توڑ چکے کیونکہ ان میں ان فولادی انا کی دیوار کو توڑ کر باہر نکلنے کی ہمت، حوصلہ، جرات، بہادری، جوش، ولولہ، تیزی، طاقت اور امید نہ رہی تھی بلکہ شاید وہ جانتے ہی نہ تھے کہ باہر کیسے نکلا جاتا ہے۔

اور باہر نکل کر وہ کرتے بھی کیا؟ انہیں تو پھر دوبارہ اندر دھکیل دیا جاتا کیونکہ لوگ تو پھر وہی کہتے تو بہت سے تو اسی ڈر اور خوف کے مارے خود کو طاقت ور بنانے کی کوشش بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ باہر نکلتے ہی پھر ان سب لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسی سوچ کے ساتھ وہ ذہنی قید خانہ میں رہنا قبول کرلیتے ہیں اور ہمت ہار جاتے ہیں اور مایوس ہوجاتے ہیں اور آخر کار روتے روتے سسک کر اندر ہی ہلاک ہوجاتے ہیں۔

غور سے پڑھ لو اور سمجھ لو کہ لیجنڈ کی نظر میں تم جیسے تمام انسان پاگل، نفیساتی اور خاموش بیمار نہیں ہو بلکہ ذہین، ہوشیار اور اونچی اڑان کے وہ شاہین ہو جو اپنے اپنے پہاڑ کی بلندی پر کھڑے کھلی فضا میں اڑنے والے زبردست پرندے تھے اور اگر اپنی ذندگی کے پہاڑ کی بلندی پر پہنچ کر اڑ جاتے تو ناجانے آج کونسی وادیوں میں پرواز کررہے ہوتے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا رہے ہوتے۔

لیکن افسوس کہ انہیں اڑان دینے کا حوصلہ بھرنے اور فضا میں بلندی عطا کرنے کے لیے ہمت دینے کے بجائے ان کے اعتماد کے پروں کو کاٹ کر نیچے گہرے سمندر میں پہاڑ سے دھکا دے کر پھینک دیا گیا جہاں آج وہ خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ کاش کوئی ہوتا جو ہمارے اندر کے انسان کو سمجھ سکتا اور جان سکتا کہ ہم کس درد کی کیفیت میں تڑپ رہے ہیں اور مررہے ہیں اور کوئی ہاتھ تھامنے والا بھی نظر نہیں آتا کہ کس کو پکاریں اور کس سے مدد لیں کہ جدھر بھی جاو ہماری آواز پر دوسرا یہی کہے کہ تم ہی پاگل اور احمق ہو جاو اپنا ذہنی علاج کرواو اور بات بھی سنتا سمجھتا نہیں۔

پھر تم سمجھتے ہو کہ تمہیں واقعی سمجھنے والا اس دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں۔ غلط! بہت ہیں لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے پر ڈوبتا ہوا کسی ہاتھ دینے والے کا ہاتھ تھامے تو سہی نا؟ لیکن بات وہی کہ انا کی دیواریں اتنی مضبوط ہوجاتی ہیں کہ اپنے نفس کو کسی کی مدد لینا اور جھکنا بھی گوارا نہیں رہتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت سے ارادے اور فیصلہ سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اسی غرور اور نہ جھکنے کے سبب۔

ہاں تمہیں واقعی علاج کی ضرورت تو ہے لیکن کس علاج کی؟ کیا دوائیوں اور باتوں سے تمہارے کٹے ہوئے پر واپس لگ جائیں گے؟ کیا ہر روز زہر کے تیر جسم پر کھاکر تمہارے ذخم بھرجائیں گے؟ نہیں! ہرگز نہیں! اسی لیے تو تم کئی سالوں سے اس آگ میں جھلس رہے ہو، تاریکی میں مررہے ہو، اذیت میں تڑپ رہے ہو، راستہ ڈھونڈ رہے ہو، منزل سے گم ہو، دشمنوں کے رحم و کرم پر ہو کہ تم بلندی سے گرے ہوئے وہ شاہین ہو جس کے پروں کو جڑوں سے کاٹ کر پھینک دیا گیا تھا۔

کچھ یاد ہے اپنا ماضی؟ جاو غور کرنا اپنے بچپن سے آج تک کے واقعات پر کہ تم اس دنیا میں کیا کرنا چاہتے تھے، تمہارے بچپن کے کیا ادھورے شوق پورے ہونے سے رہ گئے، تمہیں کس طرح سے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا گیا اور آخر کار بڑے ہونے تک سمندر میں دھکا دے کر بھی دل نہ بھرا تو تمہیں ڈوبتا دیکھ کر بھی یہی کہا گیا کہ پہاڑوں کی اونچائی سے گرنا بھی تمہارا ہی قصور ہے کیونکہ تم ہی پاگل ہو۔

نہیں۔ تم پاگل نہیں ہو! صرف ذخمی ہو اور اپنے پروں سے محروم ہو اور کاٹنے والے تو وہی ہیں جنہیں شعور ہی نہیں کہ انہوں نے تمہارے ساتھ کیا ظلم کردیا۔ لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنی ذندگی میں پروں سے محروم رہے تو بدلے میں تمہارے پر بھی کاٹ دیے کہ تم بھی ان کی طرح ہی محروم رہو کیونکہ جب وہ محرومی کا شکار ہیں تو تمہاری جرات کیسے کہ تم ان سے آگے نکل سکو؟

یہ تو ایک حسد، جلن اور احساس محرومی پر مشتمل ایسی شیطانی زنجیر ہے جس میں معاشرے لپٹا ہوا ہے لیکن یہ شیطانی زنجیر کہیں نہ کہیں سے توڑنی ہی پڑے گی تاکہ یہ سلسلہ ٹوٹنا تو شروع ہو۔

علاج تو یہی ہے کہ تمہارے کٹے ہوئے پر الہامی طاقت سے واپس لگائے جائیں اور تمہیں سمندرکی گہرائی سے نکال کر جزیرے کے کنارے پر پہنچانے کے لیے مدد کی جائے جہاں سے تم خوف کے جنگلات سے گزرتے ہوئے سفر کرو گے اور عجیب و غریب وادیوں اور بھول بھلیوں سے گزرو گے اور صحراوں کی تپش سے نمٹو گے اور آنسووں کے دریاوں میں تیرو گے اور جسم میں چبھتی خون نکالتی سنگلاخ چٹانوں سے پھسلو گے اور جب ان سب منزلوں سے گزرو گے تب کہیں جاکر واپس اپنی ذندگی کے اسی پہاڑ کی ابتداء تک پہنچو گے جدھر سے نیچے پھینک دیے گئے تھے۔

گویا کہ ایک ذخمی بچہ روتا ہوا واپس اپنی ذندگی کے پہاڑ پر خوشی کا جھنڈا گاڑنے کے لیے اور اونچائی کا سفر انجوائے کرنے کے لیے دوبارہ اللہ کا نام لے کر اور اسی کی مدد پر بھروسہ رکھ کر چڑھنا شروع کرے گا اور صبر اور استقامت سے کام لے گا۔

یہاں تک کہ دوبارہ نئے سرے سے جوان ہونے پر واپس اپنی بلندی کے اسی مقام پر جاکر کھڑے ہوجاو اور پہلی کامیابی کا جھنڈا گاڑ دو اور اس کے بعد وہاں کیمپ لگالو اور الہامی پروں کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے ذخم بھرنے کا انتظار کرو حکم الہی کا اعلان آنے تک تاکہ جیسے ہی تائید غیبی کا اشارہ ملے تو تم بھی کود پڑو کہ بس وقت آچکا ہے کہ نظارہ کروایا جائے کہ کس کی آمد ہے اور تم پہاڑ سے کود کر اپنی پہلی اڑان بھرو اور واپس اسی معاشرے کے سامنے اللہ کی مدد سے نمودار ہوکر فضا میں پرواز کرتے ہوئے ان کے سروں کے اوپر منڈلانا شروع کرو۔

کہ جب کبھی کہیں سے بھی تمہارا گزر ہو تو تمہارے الہامی پروں کے مارنے سے آندھی طوفان کی آمد تمہارے آنے کی خبر دے اور تمہاری الہامی آواز کی گونج انہیں یہ جواب دے کہ جسے تم نے معمولی سمجھ کر پروں کو کاٹ کر دشمنی کرکے سمندر میں پھینک دیا تھا پاگل، نفیساتی، احمق اور بے وقوف قرار دے کر وہ اللہ کی مدد اور مشیت سے تیار ہوکر اس بار غیرمعمولی الہامی پروں کو لگاکرایک نئی ذندگی کے ساتھ واپس آیا ہے اللہ کے فضل سے اور اب یہ وہ عام اور معمولی شاہین نہیں رہا جس کی اڑان تک ظالم دشمن کوے پہنچ کر مقابلہ کرسکیں بلکہ اب یہ ان ظالموں کی سوچ سے بھی بلند پرواز پر ہے جہاں پہنچنے کی طاقت تو بہت دور ہے وہاں تک سوچنے کے لیے ظالموں کے دماغ بھی کام کرنا چھوڑ دیں گے کہ اس کی پرواز ٹھیک طرح سمجھ نہیں آرہی، ہماری آنکھیں یقین نہیں کررہیں، ہمارے دماغ کام نہیں کررہے بلکہ ہمارے الفاظوں کے تیر بھی اثر نہیں کررہے کہ اس شاہین کا مقابلہ کیسے کریں یہ تو ناقابل شکست بن چکا ہے۔

اور ایسا کیوں نہ ہوگا کہ اس بار تم گرنے کے لیے نہیں کودے تھے بلکہ اپنی الہامی پرواز کے لیے کودے تھے اس یقین کے ساتھ کہ تم “مرغی کے بچے” نہیں بلکہ اللہ کے بنائے ہوئے ایک “مسلم شاہین” ہو شیر کا دل رکھنے والے جو پہلے بھی اڑنا تو چاہتا تھا اور جانتا تھا کہ اڑ سکتا ہے لیکن شیطان کے غلاموں کے ہاتھوں اپنے پروں سے محروم کردیا گیا تھا۔

اور اب یہ اپنے پروں سے محروم ڈوبتے شاہین کی مرضی ہے کہ وہ سمندر سے نکل کر پہاڑ کی بلندی تک پہنچنے کے لیے اور کٹے ہوئے پروں کی جگہ الہامی پروں کے لگانے کے لیے معاشرے میں اس نیچر کے ڈاکٹر کو تلاش کرے جو اس کے نئے پروں کو لگانے میں مدد کرے تاکہ یہ شاہین دوبارہ اڑنے کے قابل بنے اور پھر ایک دن معاشرے کے سامنے مسلم شیر کی شکل میں نمودار ہو اور اپنے قدموں کی آہٹ سنائے پھر اپنی شکل دکھائے اور اچانک مسلم شاہین کا روپ دھارکر ان کی آنکھوں کے سامنے اڑ کر بلندی پر نکال جائے اور لوگ پوچھ سکیں اسے فولادی دیواروں کی غلامی سے باہر نکال کر یہ اڑان اور روپ بدلنے کی طاقتیں دے کر کس نے تیار کرکے بھیجا ہے؟

تو تمہارا بھی وہی جواب ہو جو ‘تنہائی کی کھلاڑی’ کا تھا

درد کو الٹا گیا لیجنڈ
شکریہ شکریہ لیجنڈ

الحمد اللہ رب العالمین
اللہ واحدالقہار و ذوالجلال والاکرام

--

--